اچھے
دوست کی
تین نشانیاں کیا ہیں؟

اچھے دوست کی تین نشانیاں کیا ہیں؟



نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ارشاد مبارک ملاحظہ کیجئے: 

(1) اچھا ہم نشیں وہ ہے کہ اس کے دیکھنے سے تمہیں خدا یاد آئے اور 

(2) اس کی گفتگو سے تمہارے عمل میں اضافہ ہو اور 

(3) اس کا عمل تمہیں آخرت کی یاد دلائے۔ 

(جامع صغیر، ص 247، حدیث: 4063)

حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ 


نے فرمایا: نیک ساتھی اور برے ساتھی کی مثال مشک بیچنے والے عطار اور لوھار کی

 سی ھے۔۔۔ مشک بیچنے والے کے پاس سے تم دو اچھائیوں میں سے ایک نہ ایک

 ضرور پالوگے۔۔۔یاتو مشک ھی خرید لو گے ورنہ کم ازکم اس کی خوشبو تو ضرور ھی

 پاسکو گے۔


لیکن لوھار کی بھٹی یا تمہارے بدن اور کپڑوں کو جھلسا دے گی ورنہ بدبو تو اس سے

 تم ضرور پالو گے۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ ان النبی ﷺ قال:’’الرجل علیٰ دین خلیلہ فلینظر

 احدکم من یخالل‘‘ 

یعنی آدمی اپنے دوست کے دین اور اس کی روش پر ہوتا ہے۔پس تم میں سے ہر


 ایک شخص کو یہ ضرور دیکھنا چاہئے کہ وہ کس سے دوستی کررہا ہے۔ اور مسند احمد

کی 

روایت میں یہ الفاظ ہیں :’’ المرء علیٰ دین خلیلہ فلینظر احدکم من یخالل‘‘

یعنی آدمی اپنے دوست کے طریقہ پر ہوتا ہے.


یہ آرٹیکل پرھنے کے بعد قارئین کو اندازہ ہوگیا ہوگا کے دوست کی اور بالخصوص اچھے 

دوست کی خوبیاں اور خامیاں کیا ہونی چاھیے اور ہماری دوستیاں کیسی ہیں ہم کیسے

 لوگوں میں اٹھتے بیٹھتے ہیں کیا وہ دوستیاں ہمارے لیے باعث نجات ہیں یا باعث

 ھلاکت کیا ان دوستیوں میں ہمارے لئے دنیا و آخرت کا کوئی فائدہ شامل ہے یا فقط

 فضولیات پر مبنی ہیں اگر آخرت کا نفعہ نطر آرہا تو اللہ کا شکر ادا کرنا چاھئے اور اگر

 خدانخواستہ نا آخرت کا کوئی فائدہ ھے نا دنیا کا کوئی نفعہ ھے تو پھر ایسی دوستیوں اور

 ایسے دوستو پر نطر ثانی کرنی چاھیے اور یاد رکھیے دنیاوی فائدہ بھی کوئی ایسا ہو جو کہ خیر

 پر مبنی ہو امید ھے اس تحریر کا مقصد سمجھ آگیا ہوگا اس تحریر کے متعلق اپنی آراء

 سے ضرور آگاہ فرمائیں جزاک اللہ 

طالب دعا سید عامر علی شاہ عطاری قادری 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے