اونٹ اللہ کی نشانی اونٹ کی ایسی باتیں جو شاید زیادہ لوگوں کو معلوم نہیں

اونٹ اللہ کی نشانی اونٹ کی ایسی باتیں جو شاید زیادہ لوگوں کو معلوم نہیں


OONT KI AISI BATEN JO SAYAD HAR KOI NAHI JANTA
اونٹ CAMEL

الاابل یعنی اونٹ ایک ایسا ممتاز جانور ہے جس کا تذکرہ خصوصی طور پر اللہ تبارک 

و تعالیٰ نےقرآن مجید میں اپنی قدرت کی نشانیوں میں سے قرار دیا ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے


ترجمہ۔کیا تم نے اونٹ کو نہیں دیکہا کہ ہم نے کیسے پیدا کیا ہے


نبی ﷺ نے فرمایا اونٹ گھر والوں کے لیے برکت کا سبب ھے اونٹ ایسا جانور ھے جسکا پتہ نھیں 

ھوتا صاحب لغت نے لکھا ھے عربی میں اونٹ کو نبات الیل بھی کھتے ھیں چار سال کے اونٹ کو جذۃ اور نو
 
سال

کے اونٹ کو بعیر لکھا گیا ھے بوڑھی اونٹنی کو الشارف کھا جاتا ھے اور دو کوھان والے اونٹ کو عوامل کھا گیا
 
ہے

اونٹ کی چند اقسام


 یمنی اونٹ کو ارحبیہ اور العیدیہ کھا جاتا ھے دیگر کچھ اقسام یہ لکھی ھیں المجدیہ الشدنیہ المھریہ الشذقمیہ العیس

 اور الوجنہ ایسے اونٹ کو کھا جاتا ھے جنکے مزاج میں سختی ھوتی ھے الشمال ھلکے پھلکے اونٹ کو کھا جاتا 

ھے الیعملہ کام کرنے والے اونٹ کو کھا جاتا ھے تیز رفتاری سے دوڑنے والے اونٹ کو الناجیہ کھتے ھیں

 موٹے بدن والے کو العوجاۃ کھتے ھیں اور پتلے بدن والے  اونٹ کو الشمردلہ کھا جاتا ھے اچھے نسل کے

 اونٹ کو الھجان اور الکوما بڑے کوھان والی اونٹنیوں کو کھا جاتا ھے اور القوداۃ لمبی گردن والی اونٹنی کو 

کھتے ھیں

 اونٹ میں اللہ تعالیٰ نے زبردست صبر و تحمل کا مادہ رکہا ہے اگر آسکو صحرا میں بنا پانی کے دس دن

 تک رکہا جائے تو یہ صبر کرلیتا ہے اور یہ ایسی گہاس پہونس اور کانٹے دار جھاڑیوں کو آرام سے کہالیتا ہے

 جو دوسرے جانور ھضم نہیں کر سکتے نا ہی وہ کہانے کی جسارت کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اسے بیحد طاقت

 و قوت والا بہی بنایا ہے اور لمبی گردن عطا کی ہے جس وجہ سے وہ بہاری بہرکم سامان آسانی سے اٹہا کر اٹھ 

بہی جاتا ہے اور بیٹھ بہی جاتا ہے ایک تحقیق کے مطابق یہ اپنے وزن سے دس گنا زیادہ وزن اٹھانے کی 

طاقت رکہتا ہے اس کی مادہ کو ناقہ کہا جاتا ہے عرب میں اونٹ کو مختلف ناموں اور القابات سے بہی پکارہ 

جاتا ہے اسکی ایک قسم جس کو احادیث میں سرخ اونٹ کہا گیا ہے وہ بہت ہی نایاب اور عمدہ ہوتی ہے اس

 کی ایک خاصیت یہ بہی ہے کہ یہ ہر موسم میں ہر علاقے میں رہنے لگ جاتا ہے اس کو موسم سے کوئی پریشانی 

نہیں ہوتی لیکن کچھ اقسام کے اونٹ خاص طور پر صحرا و گرم علاقوں میں زیادہ پائے جاتے ہیں جہاں 

دوسرے جانور شاید ہی زندہ رھ سکیں وہاں یہ بڑی شان و شوکت سے اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانی کا مظہر بن

 کر ہم سب کہ لیے باعث حیرت بنجاتے ہیں اونٹ کو صحرا کی کشتی بہی کہا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے قرآن

 پاک میں بہی اس طرف اشارہ فرمایا ہے چناچہ ارشاد فرمایا

ترجمہ۔ان پر بہی اور کشتی پر بہی لدے لدے پہرتے ہو۔

ایک بار حضرت سعید بن جبیر سے قاضی شریح کی ملاقات ہوگئی قاضی صاحب نے دریافت کیا حضرت

 کہاں جارہے ہیں جبیر نے کہا (کوڑی کناستہ کوفہ کہ ایک شہر کا نام ہے وہاں قاضی شریح نے پوچہا وہ تو گائوں 

ہے آپ وہاں کیوں جارہے ہیں تو جبیر نے کہا میں وہاں جاکر اونٹ دیکھوں گا کیونکہ کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے 

کیا تم نے اونٹ کو نہیں دیکہا کیسا عجیب و غریب تخلیق کیا ہے ہم نے اللہ اکبر کبیرا

حضورمحمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اونٹ کو برا بھلا نا کہا کرو کیونکہ یہ زخم کا پہایہ اور شریف انسان 

کے لیے مہر ہے۔

اونٹ کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ وہ سال بہر میں ایک   بار جفتی یعنی میلاپ کرتا ہے اور اسی جفتی 

کے دوران وہ کئی بار ڈسچارج ہوتا ہے جس وجہ سے وہ کافی کمزوری محسوس کرتا ہے اس میں صبر باقی

 جانوروں سے زیادہ ہوتا ہے اسکی ایک اور خاص بات جو اسکو دیگر جانوروں سے ممتاز بناتی ہے وہ یہ کہ 

اونٹ اپنی ماں پر کبہی نہیں  چاہتا ہے اس معاملے میں یہ بہت غیرت کہاتا ہے یہ بات صاحب منطق نے

 لکہی ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بغض کینہ بہی رکہتا ہے اور دشمنی بہی کہ ہر حال میں اپنے دشمن سے بدلہ

 لیتا ہے صاحب منطق نے اسکے تحت ایک واقعہ لکہا ہے کہ ایک شخص نے زمانہ جاہلیت میں اونٹنی قصوہ کو

 کپڑے سے ڈھانک کر اسکے جوان بچے کو اس پر چڑھا دیا جب اس نے بعد میں دیکھا کہ یہ تو میری ماں ہے تو

 اس نے غیرت کہا کر اپنے ذکر کو کاٹ لیا اور اس شخص سے بغض و عناد رکھنے لگا حتیٰ کہ موقعہ پاکر اس

 نے اس شخص کو موت کی گھاٹ اتار دیا اور خد بہی کوئیں میں چھلانگ لگا کر جان دیدی

اللہ تعالیٰ نے اونٹ کو حلال قرار دیا ہے اسکا گوشت کہانا حلال و طیب ہے اسکا دودھ بہی پیا جاتا ہے اور

 یہ قوت باہ کہ لیے یرقان کے لیے طاعون کے لیے مفید ہے حضور علیہ السلام نے فرمایا اونٹوں کے باڑے

 میں 

نماز  نا پڑھا کرو کیونکہ یہاں شیطان کا مسکن ہوتا ہے اور بکریوں کہ باڑے میں پڑھ لیا کرو کہ یہ مبارک ہیں

اونٹ کی مادہ یعنی اونٹنی تین سال میں ایک بار حاملہ ہوکر بچہ جنتی ہے امام ابن زھیر نے ایک عجیب بات 

بہی لکہی ہے کہ اونٹ اگر سہیل نامی ایک ستارہ ہے اگر آسکو دیکھ لے تو اونٹ مرجاتا ہے

اگر اونٹ کے بالوں کو جلا کر بھتے ہوئے خون پر لگایا جائے تو خون رک جاتا ہے

اگر اونٹ کی چیچڑی جسکو اوجھڑی بہی کہا جاتا ہے کسی عاشق کو کاٹ کر باندھ۔ دی جائے تو اسکا عشق 

زائل ہوجاتا ہے ساتھ ہی اگر اونٹ کا پیشاب اگر کوئی شرابی یہ نشے میں مبتلا شخص بحالت نشہ پیئے تو اس کا نشہ 

جاتا رہیگا

ماہرین علم روئیہ لکھتے ہیں کہ اونٹ کو خواب میں دیکھا اچہا ہے اگر کوئی اونٹ کو خواب میں دیکھا تو اس کو 

مال دولت عزت حاکمیت بھترین صلہ فائدہ دین و مذھب یا عقیدے میں پختگی کی طرف اشارہ ہے واللہ تعالیٰ 

سے دعا ہے کہ ہم سب کو علم نافع نصیب فرمائے آمین

اگر یہ پوسٹ پسند آئی ہو تو علم جاریہ اور ثواب آخرت کی نیت سے اپنے سوشل میڈیا فیسبک واٹس اپ

گروپس اور پیجز پر شیئر کریں تاکہ یہ خیر کی باتیں اور مستند معلومات زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچے

شکریہ طالب دعا سید عامر قادری 


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے