ارطغرل غازی اور مستند تاریخ

ارطغرل غازی ایک عظیم جنگجو قائی قبیلی کے 

Ertugrul Gazi

سردار سلیمان شاہ قائی ترکمانی کا پسر سپوت یا پہر بیٹا جس کی پیدائش 1190 یا پہر 1191 میں ہوئی حلب کے قریب اپنے پڑائو کے قبیلے میں ہوئی ارطغرل غازی بچپن ہی سے بہادر جنگجو اور نڈر تھے جب بڑے ہوئے تو اس کی بھادری کا چرچہ ہر سو ہونے لگا اس وقت کے سلجوقی سلطنت کے بادشاہ اعظم سلطان علاؤ الدین قیکباد اول نے اس کی بھادری سے متاثر ہوکر سوغوت اور اسکے گرد و نواح کے شھر اس کو اور اس کے قبیلے والوں کو ملکیت میں دے دئے اور انکو سردار اعلی کا لقب اور ذمداری بہی عطا کردی جس کے سبب آس پاس کے تمام تک اور دیگر قبائل بہی اس کے ماتحت ہوگئے ارطغرل دو الفاظ کا مجموعہ ہے ار اور طغرل جس کی معنی ہیں ار مطلب ھیرو یا جنگجو یا آدمی اور طغرل کے معنی ہیں اڑنے والا عقاب ارطغرل غازی ہمیشہ سلجوق سلطان علاؤ الدین قیکباد اول اور سلجوق سلطنت کے ساتھ وفادار رہے اپنے والد سلیمان شاہ کی وفات کے بعد ہی فوراً اپنے قبیلی کو سنبھال لیا اور سرداری کے مستحق ہوئے والد کی وفات کے بعد اپنے قبیلی کو لیکر سلاجقہ روم کے قریب گئے اور وہاں کے زمینی حلقے کا حکومت سے مطالبہ کیا اور حکومت وقت نے سوغوت کی زمین ان کو دیدی جو اس وقت بازنطینی سلطنت کا حصہ تہیوہاں پر کچھ عرصے میں ایسے حالات بنے جس کی وجہ سے عظیم سلطنت عثمانیہ کی بنیاد ڈالی گئی ارطغرل غازی نے بھت سارے کارنامے انجام دئیے جن میں قبیلی کے اندورنی سازشوں کو ناکام بنایا ایوبیوں اور سلجوقوں کو جنگ سے بچایا عالم اسلام کے خلاف عیسائیوں کی سازشوں کا سرکچلہ اور ارد گرد کے باغی قبائل اور منگولوں کو شکست سے دو چار کیا  ارطغرل غازی کی وفات 1280 یا 1281 میں ہوئی لیکن باز مؤرخ کہتے ہیں کے ارطغرل غازی کی وفات 1288 یا پہر 1289 میں ہوئی مرتے وقت ارطغرل غازی نے اپنی سلطنت اور سرداری اپنے سب سے چھوٹے بیٹے عثمان شاہ قائی ترکمانی کو سونپ دی جو آگے چل کر سلطنت عثمانیہ کا بانی موجد اور سربراہ اور سب سے پہلا حاکم بنا ارطغرل غازی کی تدفین قبیلی کی تمام روایات کے مطابق سوغوت ہی میں ادا کی گئی آج بہی سوغوت شھر میں ان کی قبر ہر خاص و عام کے لیے کہلی
Ertgurl Gazi Tomb


ہوئی ہے وفات کے وقت ان کی عمر 90سال تہی یا پہر 90اور 100 کے درمیان تہی باز مورخین کے مطابق واللہ تعالیٰ اعلم

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے