ایک شریر جن اور مرگی میں مبتلہ لڑکی jinn or mirgi main mubtala larki





ایک شریر جن اور مرگی میں مبتلہ لڑکی




ایک شریر جن اور مرگی میں مبتلہ لڑکی jinn or mirgi main mubtala larki
 jinn or mirgi main mubtala larki

ایک بزرگ گزرے ہیں جن کا نام عبد الصمد بن معقل لکہا گیا ہے وہ حضرت وھب رضی اللہ عنہ سے ایک عجیب و غریب واقعہ نقل فرماتے ہیں کہ میں ان کو یہ واقعہ بتاتے ہوئے سنا کہ بنی اسرائیل میں ایک شخص تہا جس کی بیٹی مرگی کے مرض میں مبتلا تہی جابجا حکماء طبیبوں اور عاملوں کے پاس اس کے علاج کی نیت سے جاتا ہر قسم کی دوا اس کے لیے خرید لاتا لیکن نا کوئی دوائی اثر کرتی نا کسی عامل کا عمل ا س پر اثر نہ کرتا وہ ہر معالج ہر عامل سے ناامید ہوگیا تہا ایک دن اسے ایک محسن نے ایک متقی اور پرہیز گار شخص کے متعلق اطلاع دی کہ اس کے پاس جائو شاید تمہاری بیٹی کو افاقہ ہوجائے اس نے بہی بدلِ ناخواستہ کہا ٹہیک ہے اس متقی شخص سے بہی جاکر مل لیتے ہیں دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے چنانچہ وہ شخص اپنی بیٹی کو ساتھ لیے اس متقی اور پرہیز گار بزرگ کے پاس جا پہنچا اور سارہ ماجرہ جاکر اس کے سامنے پیش کردیا مجبور و بیکس باپ کی فریاد سن کر اس بزرگ کا دل پگھل گیا


اور وہ اس کے علاج کے عمل کے لیے راضی ہوگیا لیکن اس نے کہا مجھے ڈر ہے اگر میں تمہاری بیٹی کا علاج کروں گا تو تم مجھے مشہور کردوگے اور میں زمانے کی نظروں میں آجائوں گا اور میری شہرت کا سبب بن جائیگا یہ سن کر بنی اسرائیل کے اس شخص نے وعدہ کیا کے اگر میری بیٹی صحتیاب ہوگئی تو میں کسی کو نہیں بتائوں گا آپ کے متعلق بلکہ جس شخص نے مجھے آپ تک رسائی دی ہے اس کو بہی اس بات سے بیخبر رکھوں گا
وہ بزرگ اسکی بات سے متفق ہوگئے اور علاج کے لیے راضی ہوگئے کیوںکہ وہ بزرگ ایک اللہ والا تہا اس لیے اس نے اپنی نگاہ فراست سے اس کے جسم میں چھپے شریر جن کو دیکھ لیا تہا بزرگ نے اپنے اوراد و وضائف پڑھ کر اس پر اپنا عمل شروع کیا تو وہ ظاہر ہوگیا اور اس کے جسم سے بات کرنے لگا بزرگ نے اس شریر جن سے کہا کے اس معصوم بچی نے تیرا کیا بگاڑا ہے کیونکہ اس کو اذیت میں مبتلا کر رکہا ہے  اس کے جسم سے نکل جا لیکن شریر جن نے کہا میں ہر گز اس کے جسم سے نہیں نکلوں گا لیکن اس کی ایک صورت ہے اگر میں اس کے جسم کو چہوڑدوں تو تیرے جسم میں داخل ہوجائوں گا
یہ سن کر بزرگ نے فرمایا ٹہیک ہے تم اس معصوم بچی کو چہوڑ دو اور میرے جسم میں داخل ہوجائو  چنانچہ شریر جن نے بچی کا جسم چہوڑا اور بزرگ کے جسم میں داخل ہوگیا بزرگ نے اوراد و وضائف پڑھ کر اپنے جسم کے تمام مسام بند کردیے اور اس شریر جن کو اپنے ہی جسم میں قید کرلیا اور بنی اسرائیل کے اس شخص سے کہا اللہ تعالیٰ کے کرم سے اب تمہاری بیٹی بلکل ٹہیک ہے تم اس کو گھر لیجائو اور خوش رہو لیکن اس بات کا ذکر کسی سے مت کرنا  اس شخص نے کہا مجھے ڈر ہے کہ یہ شریر جن کہیں پہر سے نا میری بیٹی کے جسم میں داخل ہوجائے اور پہر سے نا اس کو تلیکف و اذیت میں مبتلا کرے بزرگ نے فرمایا انشاء اللہ تعالیٰ اب یہ جن کبہی بہی تمہاری بیٹی کے قریب نہیں آئےگا تم بیفکر ہوکر جائو چنانچہ وہ دکھیارا باپ بزرگ کو دعائیں دیتا ہوا چلا گیا اور بزرگ نے حسب معمول اپنی رات کی عبادت اور صبح کو روزہ رکہنا شروع کردیا ابہی ایک ہفتہ ہی ہوا تہا تو جن نے بزرگ سے کلام کیا کہ تم کہانا کیوں نہیں کہاتے تاکہ تم کو عبادت پر قوت ملے تو بزرگ مسکرائے اور فرمایا ابہی صبر رکھ مجھے کہانے کی حاجت نہیں ہے اندر سے جن بولا پہر مجھے اپنے قید سے رہا کر اور مجھے جانے دے  بزرگ نے فرمایا ابہی نہیں چنانچہ بزرگ نے مزید ایک ھفتہ روزے رکھے اور رات کی عبادت کی پہر ایک ھفتے بعد جن بولا خدا کے واسطے مجھے جانے دے

اگر تونے مجھے رہا نا کیا اپنی قید سے تو میں بھوک پیاس مرجائوں گا اور تیری بہی ھلاکت ہوگی بزرگ نے فرمایا ابہی مجھے کہانے پینے کی حاجت نہیں ہے جن نے کہا لیکن مجھے بڑی بھوک لگی ہے مجھے نکال ورنہ میں مر جائوں گا بزرگ نے فرمایا مجھے ڈر ہے اگر میں نے تجھے چہوڑ دیا تو پہر تم اس بچی کو جاکر تنگ کروگے اور اس کو تکلیف دوگے جن نے وعدہ کیا اور اللہ تعالیٰ کی قسم کہائی کے اگر تم نے مجھے چہوڑدیا تو میں کبہی اس لڑکی کو تنگ نہیں کروں گا چنانچہ اس کی منت سماجت کے بعد بزرگ نے اس کو اپنے جسم سے نکلنے کا راستہ دیا اور وہ بھاگ کہڑا ہوا اس کے بعد کبہی کسی انسان کو تنگ نہیں کیا بلکہ جب بہی کسی انسان کو دیکہتا تو بھاگ جاتا سبحان اللہ
ایسے ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ کے ولی جو دکھ درد کے ماروں کے دکہوں کا مداوا کرتے ہیں خد کر مصیبت اور مشقت برداشت کر کے دوسروں کے آسانیاں اور خوشیاں پیدا کرتے ہیں اسی لیے تو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے کہ الا ان اولیاء اللہ لا خوف علیہم والا ھم یھزنون
اس آیت کا ترجمہ اور تفسیر ایک کلک میں ڈاؤنڈ کریں   Download اور میرے دوست میرے اولیاء کو نا کبہی خوف ہوتا ہے نا وہ کبہی غمزدہ ہوتے ہیں
ورنہ شاید اگر کوئی عام انسان ہوتا تو جن کا نام سن کر بہی ڈر جاتا اور بھاگ کہڑا ہوتا لیکن بزرگ نے جن کو ہی بھاگنے پر مجبور کردیا اللہ ہم سب کی شریر جنات اور شریر انسانوں سے اپنی حفاظت میں رکھے اور ہم سب کو اچھے اعمال کی توفیق عطا فرمائے آمین

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے