اللہ تعالیٰ کے ہر کام میں بھتری ہی ہوتی ہے
Allah Ke Har Kam Main Hikmat Hoti Hai
انسان ہمیشہ سے اپنی خواہشوں کا غلام رہا ہے جبکہ اللہ تعالٰی بندے کے ہر کام میں بھتری ہی فرماتا ہے کبہی آزمائش کے ذریعے کبہی آسائش کے ذریعے وہ اپنے بندوں پر اتنا ہی وزن رکھتا ہے جس کی برداشت کرنے کی اس کے اندر قوت و استطاعت ہوتی ہے اس کی طاقت و قوت سے بڑھ کر وہ کسی پر بوجھ نہیں ڈالتا جیسا کہ قرآن مجید میں بہی ہے لا یکلف اللہ نفساًالا وسعھا
حضرت ذوالنون مصری علیہ رحمہ فرماتے ہیں کہ ایک گائوں میں ایک شخص رھتا تھا جس میں ہر کسی نے کچھ جانور پال رکھے تھے اس شخص نے بہی ایک گدھا ایک کتا اور ایک مرغا پال رکھا تھا کتا اس نے اپنے گھر کی اور جانور کی حفاظت کے لیے پالا ہوا تہا ہر کسی کے جانور خوش و خرم تھے لیکن آئے دن اس کے جانور بیمار پڑ جاتے تھے کچھ عرصے بعد پہلے اس کا مرغا مر گیا جس کے ساتھ اس کا بھت لگائو تہا لیکن اس نے یہ الفاظ کھ کر صبر کرلیا کے اس میں ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھتری ہوگی اس نے شکر ادا کیا اور زندگی اپنے معمول پر آگئی.
ابہی چند دن ہی گزرے تھے کہ ایک بھیڑیا اس کے گھر میں گھس گیا اور اسکے گدھے کا پیٹ چیر کر چلا گیا جس سے اس کا گدھا بہی مرگیا اس شخص نے پہر وہی الفاظ کھے کہ اللہ تعالیٰ کی اس میں کوئی بھتری ہوگی اور یوں اس نے صبر کرلیا پہر سے زندگی معمول پر آگئی اور وہ اپنے دیگر معاملات میں مصروف ہوگیا کچھ عرصے بعد اسکا کتا بیمار پڑ گیا اور اور وہ بہی لقہ اجل بن گیا لیکن یہ شخص پہر بہی مایوس نہیں ہوا انہی الفاظ کے ساتھ شکر ادا کیا اور کہا کہ شاید اسی میں رب کی رضا اور کوئی بھتری ہی ہوگی.
یہ سلسلہ یوں چلتا رہا چند دن گزرے تھے کہ اچانک بادشاھ کی فوج اس کے گائوں میں آ پڑی اور وہاں کے ہر گھر کے مرد کو گرفتار کر لیا ور ان کے تمام جانور بہی اپنے قبضے میں کرلیے فوج نے وجہ یہ بتائی کہ ان کے جانوروں کی آوازیں بادشاھ کو تکلیف دیتی ہیں اس لیے بادشاھ نے ان تمام لوگوں کو گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا جن کے گھر میں جانور تھے لیکن وہ شخص جس کے ایک بعد ایک جانور مر گئے تھے وہ بچ گیا گرفتاری سے کیونکہ اس کے گھر میں کوئی جانور ہی نہیں تہا تب اس کو اندازہ ہوا کے اللہ تعالیٰ کیسے اپنے شاکر بندوں کی .حفاظت فرماتا ہے
اس کے ہر کام میں بھتری ہی ہوتی ہے اس لیے وہ جیسے رکھے جہاں رکھے جس حال میں رکھے اس کی رضا پر راضی رہنا چاہیے اور اس کا شکر ادا کرنا چاہیے اللہ تعالیٰ ہم سب کی حفاظت فرمائے اور ہم کو اپنے صابر و شاکر بندوں میں شامل فرمائے اپنی اور اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی توفیق عطا فرمائے آمین یارب العالمین بجاہ النبی الکریم
ابہی چند دن ہی گزرے تھے کہ ایک بھیڑیا اس کے گھر میں گھس گیا اور اسکے گدھے کا پیٹ چیر کر چلا گیا جس سے اس کا گدھا بہی مرگیا اس شخص نے پہر وہی الفاظ کھے کہ اللہ تعالیٰ کی اس میں کوئی بھتری ہوگی اور یوں اس نے صبر کرلیا پہر سے زندگی معمول پر آگئی اور وہ اپنے دیگر معاملات میں مصروف ہوگیا کچھ عرصے بعد اسکا کتا بیمار پڑ گیا اور اور وہ بہی لقہ اجل بن گیا لیکن یہ شخص پہر بہی مایوس نہیں ہوا انہی الفاظ کے ساتھ شکر ادا کیا اور کہا کہ شاید اسی میں رب کی رضا اور کوئی بھتری ہی ہوگی.
یہ سلسلہ یوں چلتا رہا چند دن گزرے تھے کہ اچانک بادشاھ کی فوج اس کے گائوں میں آ پڑی اور وہاں کے ہر گھر کے مرد کو گرفتار کر لیا ور ان کے تمام جانور بہی اپنے قبضے میں کرلیے فوج نے وجہ یہ بتائی کہ ان کے جانوروں کی آوازیں بادشاھ کو تکلیف دیتی ہیں اس لیے بادشاھ نے ان تمام لوگوں کو گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا جن کے گھر میں جانور تھے لیکن وہ شخص جس کے ایک بعد ایک جانور مر گئے تھے وہ بچ گیا گرفتاری سے کیونکہ اس کے گھر میں کوئی جانور ہی نہیں تہا تب اس کو اندازہ ہوا کے اللہ تعالیٰ کیسے اپنے شاکر بندوں کی .حفاظت فرماتا ہے
اس کے ہر کام میں بھتری ہی ہوتی ہے اس لیے وہ جیسے رکھے جہاں رکھے جس حال میں رکھے اس کی رضا پر راضی رہنا چاہیے اور اس کا شکر ادا کرنا چاہیے اللہ تعالیٰ ہم سب کی حفاظت فرمائے اور ہم کو اپنے صابر و شاکر بندوں میں شامل فرمائے اپنی اور اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی توفیق عطا فرمائے آمین یارب العالمین بجاہ النبی الکریم
طالب دعا سید عامر قادری


0 تبصرے